مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امام جمعہ تہران حجت الاسلام سید محمد حسن ابوترابی فرد نے کہا ہے کہ آج دنیا فلسطینی عوام کی شاندار مزاحمت کے سامنے تعظیم کے ساتھ کھڑی ہے، جبکہ صہیونی میڈیا خود اپنی اسٹریٹجک شکست کا اعتراف کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کی مزاحمت ایمان، صبر اور استقامت کی علامت ہے، اور شہید یحییٰ سنوار کی تصویر عالمی سطح پر صہیونی افسانوی فوجی طاقت کی شکست کی علامت بن چکی ہے۔
ابوترابی فرد نے طوفان الاقصی آپریشن کو مزاحمتی قیادت کی حکمت و طاقت کا مظہر قرار دیا اور کہا کہ یہ کارروائی اسرائیلی انٹیلی جنس و سیکیورٹی نظام کو مفلوج کرگئی اور مزاحمتی قوتوں کو مقبوضہ علاقوں میں گہرائی تک رسائی دی۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور مغرب کی طرف سے حماس کو ختم کرنے کے دعوے ناکام ثابت ہوئے اور اسرائیل مذاکرات پر مجبور ہوگیا۔
ابوترابی فرد نے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کو مزاحمت کے مضبوط ارادے کی فتح قرار دیا اور کہا کہ دشمن تمام تر فوجی و میڈیا طاقت کے باوجود ایک بھی یرغمالی کو آزاد نہ کرا سکا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل اندرونی سیاسی بحران، عوامی بے اعتمادی اور اقتصادی دباؤ کا شکار ہے۔ اکتوبر 2023 سے جاری جنگوں کے اخراجات کئی سو ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔
خطیب نماز جمعہ نے حزب اللہ، یمن، عراق اور شام کی مزاحمتی قوتوں کو استکباری طاقتوں کے خلاف فیصلہ کن قوت قرار دیا اور کہا کہ یہی محورِ مزاحمت صہیونی عزائم کی ناکامی کا سبب بن رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ تجربات نے ثابت کر دیا ہے کہ عوامی استقامت، سیاسی و اقتصادی دباؤ اور مزاحمتی اتحاد نے خطے کے حالات کو بدل دیا ہے اور مستضعفین کے ارادے کی فتح قریب ہے۔
آپ کا تبصرہ